پولیس لیڈی کمانڈو سمیت20 خواتین سے زیادتی کرنیوالاملزم گرفتار

 پولیس لیڈی کمانڈو سمیت20 خواتین سے زیادتی کرنیوالاملزم گرفتار
rapist arrest

(سٹی42)معاشرے میں جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافے سے نہ صرف معصوم لڑکیاں عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہیں بلکہ ان کے والدین بھی سخت تشویش میں مبتلا ہیں،خود قانون کی محافظ خواتین بھی ان درندوں سے غیرمحفوظ ہیں، ایک ایسا ہی واقعہ شہراقتدار میں پیش آیا جہاں لیڈی پولیس اہلکار سمیت 20 خواتین کے ساتھ بدفعلی کرنے والے ملزم کو حراست میں لے لیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی خاتون کمانڈو سمیت 20سے زائد خواتین کو حوس کا نشانہ بنانے والا درندہ صفت ملزم گرفتار کرلیا گیا, ایس پی رانا وہاب کار کہنا ہے کہ ملزم زیادتی کے بعد خواتین سے موبائل ۔نقدی اور زیورات چھین کر فرار ہوجاتا تھا,دوسال قبل اسلام آباد کے نواحی علاقے کورال میں ڈیوٹی سے گھر واپس جاتے ہوئے پولیس لیڈی کمانڈو کو بے ہوش کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سفاک ملزم نے لیڈی کانسٹیبل کو شدید زخمی بھی کیا تھا، عرصہ دراز سے پولیس کو اس ملزم کی تلاش تھی جو باالاآخر پکڑا گیا, دوران تفتیش ملزم نے بیس سے زائد خواتین کو ڈکیتی کے دوران زیادتی کا اقرار بھی کیا,پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ظہیر احمد جھاڑیوں میں چھپ کر اکیلی خاتون پکڑ کر جنگل میں لے جاتا اور واردات سے قبل خواتین کو نشہ آور سپرے کے ذریعے بےہوش کرکے ان سے رقم، زیورات اور موبائل فون چھینتا تھا، ملزم کی گرفتاری میں جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا گیا۔

پولیس نے ملزم ظہیر کا پانچ روزہ جسمانی حاصل کرکے تفتیش شروع کردی ہے، آئی جی قاضی جمیل الرحمان اور ایس ایس اپریشنز مصطفی تنویر نے ملزم کو گرفتار کرنے والے اہلکاروں میں تعریفی اسناد اور نقد انعام کا اعلان کیا ہے.

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں بااثر ملزمان کے سر پر بڑی بڑی سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہوتا ہمارےمعاشرے کی بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ناجائز کاموں اور دوسروں کی کی عزتوں کو پامال کرتے ذرا نہیں گھبراتے،  آئے روز چوری، ڈکیتی، قتل اور زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام میں پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

مزید پڑھئے: خاتون کو ہراساں کرنے پر سینئر افسر کو سزا سنا دی گئی

دوسری جانب لاہور  شہر بھی خواتین کے لئےغیر محفوظ شہر  بنتا جارہا ہے،خواتین کو قتل کرنے کے واقعات بڑھنے لگے، کہیں قتل کر کے لاشیں بوریوں میں پھینک دی گئیں تو کہیں جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے، گزشتہ پانچ ماہ میں اکتالیس خواتین کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کردیا گیا،  خواتین کو گھریلو ناچاقی پر قتل کیا گیا یا اغواء کے بعد جان لی گئی، قاتل کون ؟  پولیس تاحال سراغ لگانے میں نا کام ہے۔