عیدالفطر کی آمد، درزیوں نے حکومت سے مطالبہ کردیا

Tailor worry due to corona
Tailor

اناشیہ پاشا:عید قریب آتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد درزی کی دکانوں کا رخ کرتی ہے، مگر کورونا کی وجہ سےدرزیوں کا کام بھی بُری طرح متاثر ہوا ہے۔

رمضان کے آخری عشرے میں تو ٹیلرز کی دکانوں پر رش ہوتا ہے مگر کورونا کے باعث اس سال باقی مارکیٹوں کی طرح درزیوں کی دکانیں بھی سنسان ہیں۔ درزیوں کا کہنا ہے کہ گاہک اب فون پر آرڈر دے رہے ہیں جبکہ بیماری کے ڈر سے کاریگر بھی کام پر نہیں آ رہے۔

دوسری جانب درزیوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ اگر فون پر آرڈر لیا جائے تو ناپ اور ڈیزائن میں غلطی کاامکان ہوتا ہے۔ جس سےگاہکوں کے عید کے کپڑے خراب ہو سکتے ہیں۔ درزیوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے کام کی ٹائمنگ تھوڑی بڑھا دی جائے تاکہ کاروبار میں جو نقصان ہو رہاہے اس سے بچا جا سکے۔

کورونا سے کام رک جانے کے باعث کسٹمر اور درزی دونوں ہی پریشان نظر آرہے ہیں۔عید کے دنوں میں مشین کا پہیہ تیزی سے چلتا ہے مگر کورونا سے ایک طرف نہ صرف شہر بھر کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، بلکہ ٹیلرز کا کام بھی رک گیا ہے۔  

 شہر میں کورونا وائرس کے مزید 1049 نئے مریضوں کی تصدیق ہوگئی ،لاہور میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا سے 16  اموات ہوئی ہیں۔ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1130 مریض داخل ہیں جن میں سے کورونا کے 709 کنفرم جبکہ 421 مشتبہ مریضوں کا علاج جاری ہے۔کورونا وائرس کے 260 مریضوں کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے جنہیں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا گیا ہے۔ہسپتالوں کے آئی سی یوز کے 81 فیصد بستروں پر کورونا مریض زیر علاج ہیں۔رپورٹ کے مطلابق شہر میں کورونا  کے مثبت کیسز کی شرح 16 فیصد ہے۔