بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

(عثمان خان) دنیا بھر میں 3  مئی کے دن کو  آزادی صحافت کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ وفاقی حکومت میڈیا کو دبانے اور اسے پروپیگنڈا کی ذاتی مشین بنانے والی کوششوں سے باز آ جائے۔

تفصیلات کے مطابق  پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے  آزادی صحافت کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ وفاقی حکومت میڈیا کو دبانے اور اسے پروپیگنڈا کی ذاتی مشین بنانے والی کوششوں سے باز آ جائے۔ مذکورہ کوششوں کا مقصد میڈیا کو اپنے مخالفین پر جبر کے لئے ایک آلے کے طور استعمال کرنا ہے۔ تحریک انصاف کی فسطائیانہ حکومت کے دوران پریس کی آزادی کی سالانہ درجہ بندی میں پاکستان کی تنزلی ہوئی ہے۔پاکستان میں صحافیوں نے آزادی صحافت کے لئے بڑی قربانیاں دیں ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ آزادیِ اظہارِ رائے کی ہر جدوجہد میں پیپلز پارٹی ہمیشہ صحافی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی رہی، آ ئںدہ بھی رہے گی۔ہم پریس کی آزادی اور غیرجانبدار و بے باک  صحافت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔حکومت  میں آنے کے بعد سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے اٹھائے گئے اولین اقدامات میں سے ایک تمام آمرانہ کالے قوانین کا خاتمہ تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہناتھا کہ تحریک انصاف کی حکومت پہلے ہی دن سے میڈیا کی آزادی پر حملے کر رہی ہے۔موجودہ حکومت کے ناقدین کے ٹی وی شوز زبردستی بند کردیئے گئے اور متعدد کو نکال دیا گیا۔ پیپلز پارٹی صحافی برادری کے ساتھ مل کر صحافت کی آزادی، صحافی برادری کے تحفظ اور ان کے تقدس کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ  خواتین کے عالمی دن پر پیغام اپنے پیغام میں بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ شہید بینظیر بھٹو خواتین کیلئے روشنی کا مینار ہیں۔خواتین حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رہیں تو ہر خاتون بینظیر ہوگی، پیپلزپارٹی نے خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے اور خواتین، پسماندہ طبقات ہی پیپلز پارٹی کی اصل طاقت ہیں۔

عمران خان کی حکومت، پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے پیغام کو ختم کرنے والی کوششوں کے تحت بی آئی ایس پی کارڈز سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تصویر اور نام ہٹا دیا ہے، بڑے منصب پر بیٹھے چھوٹے لوگ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات کو ختم نہیں کرسکیں گے جن کی وجہ سے صنفی امتیاز پر قائم پدرانہ نظام اقتدار کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔