اساتذہ کا غلط ڈیٹا،متعلقہ اتھارٹیز  کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

اساتذہ کا غلط ڈیٹا،متعلقہ اتھارٹیز  کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

(جنید ریاض)سکول انفارمیشن سسٹم پر اساتذہ کا ڈیٹا درست کرنا اتھارٹیز  کے لئےبڑا چیلنج بن گیا،محکمہ تعلیم کی جانب سے متعدد ڈیڈ لائن دینے کے باوجود ویب سائٹ پر 30 ہزار اساتذہ کا ڈیٹا درست نہ ہوسکا۔

تفصیلات کے مطابق سکول انفارمیشن سسٹم پر اساتذہ کا ڈیٹا درست کرنا اتھارٹیز کیلئے بڑا چیلنج بن گیا۔محکمہ تعلیم کی جانب سےمتعدد ڈیڈ لائن دینے کے باوجود ویب سائٹ پر اساتذہ کا ڈیٹا درست نہ ہوسکا۔تبادلوں سے پابندی اٹھانے سے قبل ویب سائٹ پر پنجاب کے 30 ہزار اساتذہ کا ڈیٹا درست کرنے کی ضرورت ہے۔

لاہور کے 205 اساتذہ، 8 سکول سربراہان اور 89 ریٹائرڈ اساتذہ کا ڈیٹا غلط ہے۔سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اساتذہ کے ڈیٹا کی درستگی کیلئے اتھارٹیز کو ایک بار پھر ہدایات جاری کردی گئی ہے۔سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ 5 جون تک ڈیٹا درست نہ ہوا تو متعلقہ اتھارٹیز  کےخلاف کاروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سکول انفارمیشن سسٹم پر لاہور کے سرکاری سکولوں کے 3650 اساتذہ کے کوائف میں غلطی سامنے آئی ، محکمہ تعلیم نے کوائف کی درستگی کے لئے غیرتصدیق شدہ اساتذہ کی فہرست جاری کردی تھی۔ 3 ہزار چھ سو پچاس اساتذہ کے پروفائل ابھی بھی غلط ہیں ۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اساتذہ کا پروفائل درست نہ کیا گیا تو تنخواہیں روک دی جائیں گی۔

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے سکول سربراہان کو آگاہ کیا تھا کہ اپنے اپنے سکولوں کے اساتذہ کے کوائف درست کریں، کوائف درست نہ ہونے کی صورت میں سکول سربراہان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

سکول انفارمیشن سسٹم پر ڈیٹا اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سےسینکڑوں پرنسپل،ہیڈ ماسٹر،ڈی ای اوز اور ڈپٹی ڈی ای اور اوزپرموشن پانےوالے ہزاروں اساتذہ بھی تعیناتیوں کے منتظرہیں۔محکمہ تعلیم نے سکول سربراہان کو31 مئی تک سکول انفارمیشن سسٹم پر موجود  ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنےکی ہدایت کی تھی۔ڈسپوزل پرموجود تمام اساتذہ گریڈ سترہ،اٹھارہ ،انیس اور گریڈ بیس کے ہیں۔