غلام بندروں کی مشقت سے جان چھوٹ گئی ،بڑی پابندی عائد

غلام بندروں کی مشقت سے جان چھوٹ گئی ،بڑی پابندی عائد

سٹی 42:غلام بندروں سے مشقت کروا کر تیارکردہ اشیا پر پابندی عائد کردی گئی ہے،یہ پابندی جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی تنظیم نے لگائی ہے،ایک بندر سے روزانہ تقریباً 1600ناریل توڑنے کا کام لیا جا تا ہے جو کہ 80 آدمیوں کی مزدوری کے برابر ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کھانے پینے کی پراڈکٹس فروخت کرنے والی مشہور کمپنی( waitrose  and  partners )نے تھائی لینڈ سے درآمد کردہ ناریل سے بنی اشیاءکی فروخت بند کردی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ یہ اشیاءخورد و نوش فروخت نہ کرنے کا سبب اشیاءکی تیاری کے لیے غلام بندروں سے مزدوری کرواناہے۔جو کہ جانوروں کے حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور جانوروں کے حقوق کی تنظیم PETA) People for the ethical treatment of animals )کے بنائے ہوئے اصولوں کے خلاف ہے جبکہ ویٹروس جیسی بین الاقوامی کمپنی قطعی طور پر جانتے بوجھتے ہوئے ایسے کسی عمل کا حصہ بننا پسند نہیں کرتی۔اسکے علاوہ Boots,Co-opاور Ocado  نامی کمپنیز نے بھی تھائی لینڈ کی ناریل سے تیار کردہ کھانے کی اشیاءکی فروخت پر مکمل پابندی عائد کردی ہے.

ایشیا میں PETA تنظیم کی تفتیشی ٹیم کے مطابق تھائی لینڈ میں کسان بندروں کو قید کرتے ہیں اور انہیں زنجیروں سے باندھ کر ان سے سخت مشقت والا کام لیا جاتا ہے اور ایک بندر سے تقریباً 80مزدور انسانوں کے برابر کام لیا جاتا ہے جو کہ بندروں کے حقوق کی سرا سر خلاف ورزی ہونے کے علاوہ اپنے آپ میں ظلم کی ایک مثال ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے  ٖ PETA کے ڈائریکٹر الیسا ایلن کا کہنا تھا کہ ان انتہائی ذہین جانوروں کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے ناصرف زنجیروں سے باندھا جاتا ہے بلکہ انکے کاٹنے سے بچنے کے لیے انکے دانت بھی توڑ دیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ 4اپریل سے مکمل لاک ڈاﺅن کے بعدتھائی لینڈ میں سیاحوں کی آمدورفت بند ہونے کے بدولت پہلے ہی وہاں تقریباً2000 بندر بھوک کی شدت اور آپس میں کھانے کی لڑائیوں کی وجہ سے مر رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت نے بندروں کی تعداد کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے نس بندی جیسے عمل کا سہارا لیا ہے جس کی بدولت بندر اپنی نسل بڑھانے کے قابل نہیں رہیں گے اور اب تک اس عمل سے تقریباً500بندروں کو گزارا جا چکا ہے۔