نئے سی سی پی او لاہور کا ماضی بھی داغدار نکلا

نئے سی سی پی او لاہور کا ماضی بھی داغدار نکلا

سٹی 42:نئے سی سی پی او لاہور کا ماضی بھی داغدار نکلا ۔

:پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں نئے تعینات ہونیوالے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر  غلام محمود ڈوگر بھی تنازعات کی زد میں آ گئے ، بتایا گیا ہے کہ نئےسی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر 2012 میں بطور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تعینات تھے اور اس وقت انہوں ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی کی زمین پر قبضہ اور انھیں ہراساں کیا جس پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے غلام محمود کو تحقیقات میں قصور وار ثابت ہونے پر معطل کر دیا تھا، تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں غلام محمود ڈوگر کو قصور وار قرار دیاتھا۔غلام محمود نےڈوگر نے ایک اوورسیز پاکستانی پرجھوٹا مقدمہ درج کرایا تھا۔

 یاد رہے کہ غلام محمود ڈوگر کو حال ہی میں سی سی پی او  لاہورعمر شیخ کی جگہ تعینات کیا گیا ہے وہ اس سے قبل وہ آر پی او فیصل آباد تعینات تھے۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے شہر میں بڑھتے جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے غلام محمود کو سی سی پی او لاہور تعینات کیا تھا، سابق سی سی پی اور عمر شیخ لاہور میں قبضہ مافیا کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔

واضح رہے لاہور کے سابق سی سی پی او کو 2 ستمبر 2020 کو تعینات کیا گیا، ان کی تعیناتی کے آغاز میں ہی متنازعہ بن گئی، سیالکوٹ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد اپنے ڈیپارٹمنٹ میں متنازعہ بننے والے عمر شیخ لاہوریوں کی نظر میں بھی اپنی قدر و منزلت کھو بیٹھے۔

سی سی پی او لاہور کا عہدہ کبھی بھی اتنا متنازعہ نہ رہا جتنا متنازعہ سابق سی سی پی اور لاہور عمر شیخ کے دور میں رہا۔ اپنے عہدے کا چارج لیتے ہی آئی جی پنجاب کے ساتھ تنازعہ کھڑا کیا جو آئی جی پنجاب کی رخصتی کا موجب بنا اور یوں وہ ایک منہ زور افسر کی حثیت سے سامنے آئے۔ افسروں اور ماتحتوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عمر شیخ نے جو بہتر سمجھا کیا۔