سیالکوٹ میں انسانیت سوز واقعہ، ملزمان کی شناخت گرفتاریاں

Sialkot Incident
Sialkot

ویب ڈیسک: سیالکوٹ پولیس کے مطابق  ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت پریا نتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ سیالکوٹ کے وزیر آباد روڈ پر واقع ایک نجی فیکڑی میں بحثیت ایکسپورٹ مینیجر کے خدمات انجام دے رہے تھے۔

 ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک انتہائی بری طرح جلی ہوئی لاش لائی گئی ۔  ‘لاش تقریباً راکھ ہی بن چکی تھی۔‘ وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے ٹویٹ کی ہے کہ ’سیالکوٹ واقعے میں ملوث 50 درندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آر پی او اور کمشنر گوجرانوالہ سیالکوٹ میں ہیں اور انکوائری کر رہے ہیں۔ انکوائری 48 گھنٹے میں مکمل کر لی جائے گی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور نادار کے پاس چہرے شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے واقعے کے تمام ذمہ داران کو پکڑا جائے گا۔‘

یانتھا کمارا جن کی عمر تقریباً 50 سال ہے اور ان کا تعلق سری لنکا سے تھا، سیالکوٹ وزیر آباد روڈ پر واقع  گارمنٹس فیکٹری جو سپورٹس اور دیگر اقسام کے گارمنٹس بناتی ہے، میں چھ سال سے کوالٹی مینیجر کے طور پر کام کر رہے تھے۔‘ زیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور مشرق وسطیٰ طاہر اشرفی نے سیالکوٹ واقعے کے حوالے سے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’سیالکوٹ میں جس بربریت سے سری لنکن مینیجر کو قتل کیا گیا وہ قرآن اور سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔