لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، ورثہ بچالیا

لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، ورثہ بچالیا


( سٹی 42 ) لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، حکومت کو گورنر ہاؤس کی دیوار مسمار کرنے سے تاحکم ثانی روک دیا۔ عدالت نے وزیراعظم کے احکامات معطل کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت سے تحریری جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر عدالتی فیصلے کے خلاف کچھ ہوا تو سب جیل میں ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مامون رشید شیخ نے خواجہ محسن عباس سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کے وکلاء نے وفاقی و صوبائی حکومت سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر ہاؤس ثقافتی ورثے کی حامل عمارت ہے  جس کی دیوار کو وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر گرایا جارہا ہے۔

عدالت نے وکلاء سے استفسار کیا کہ کیا گورنر ہاؤس کی دیوار گرا دی گئی ہیں۔ وکیل نے جواب دیا جی دیوار گرانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ وکلاء نے بتایا کہ یہ گورنر ہاؤس ایک صدی سے بھی پرانا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ گورنر ہاؤس کس کے کنٹرول میں آتا ہے، عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت کے ماتحت ہے تاہم دیواریں گرانے کے لیے کابینہ سے اجازت بھی نہیں لی گئی۔

وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس طرح کے کام کے لیے اخبار اشتہار دینا ضروری ہے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب ملک عظیم نے عدالت کو بتایا کہ گورنر ہاؤس کی بلڈنگ کو مسمار نہیں کیا جا رہا صرف دیوار  کی بات ہوئی ہے جس پر جسٹس مامون رشید نے جواب دیا کہ میں یہیں پیدا ہوا ہوں میں جب سے دیکھ رہا ہوں دیوارموجود ہیں۔

درخواست گزار وکلاء کا مزید دلائل دیتے ہوئے کہناتھا کہ گورنر ہاؤس کی عمارت ثقافتی ورثہ کی حامل تاریخی عمارت ہے تاہم گورنر ہاؤس کی دیوار گرانا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے.گورنر ہاوس پنجاب کی دیوار گرانا اینٹی کیوٹ لا کی بھی خلاف ورزی ہے. وکلاء نے عدالت نے گورنر ہاوس کی دیواروں کی مسماری روکنے کا حکم دینے کی استدعا کی

عدالت نے گورنر ہاؤس کی دیوار مسمار کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت کے مزید احکامات تک گورنر ہاؤس کی ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلنی چاہئیے۔ عدالت نے وفاقی اور پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ وفاقی حکومت عدالت کو مطمئن کرے کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر ایسے احکامات کیسے جاری کیے گئے۔

لاہور میں اور کیا کچھ ہو رہا ہے ؟ جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 12 بجے 9 دسمبر 2018

https://www.youtube.com/channel/UCdTup4kK7Ze08KYp7ReiuMw