محکمہ خزانہ حکومتی کفایت شعاری پالیسی کامذاق اُڑانے لگا

Finance Department
Finance Department

سول سیکرٹریٹ (قیصر کھوکھر) حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی افسروں نے ہوا میں اُڑا دی، محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم  میں نہ کوئی اجلاس ہوتا، نہ ہی کوئی افسر موجود ہوتا ہے مگر چلر چل رہے ہوتے ہیں، محکمہ خزانہ قومی خزانے کابے دریغ استعمال کرنے میں مصروف ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں چار چلر کیساتھ بجلی پنکھے بھی دن رات چلتے رہتے ہیں، جس سے لاکھوں روپے کی بجلی بلاوجہ ضائع ہو رہی ہے، کمیٹی روم میں نہ تو کوئی افسر ہے اور نہ ہی یہاں کوئی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، اس کے باوجود کمیٹی روم کی فرنیچر کو ٹھنڈک پہنچا کر قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ 

علاوہ ازیں سرکاری افسروں کے گھروں کی تزئین و آرائش کیلئے حکومت نے گرانٹ جاری کردی، محکمہ پی اینڈ ڈی نے گھروں کی تعمیرو مرمت کیلئے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کیے، حکومت کی جانب سے گرانٹ ملنے پر پنجاب کے 33 سیکرٹریوں نے اپنے گھروں کیلئے فنڈز کا مطالبہ کر دیا۔ 

ذرائع کے مطابق لاہور میں تین ہزار سے زائد سرکاری گھر ہیں۔ محکمہ آئی اینڈ سی کا کہنا ہے کہ محدود بجٹ میں ہی افسران کو فنڈز جاری کیے جائیں گے، محکمہ آئی اینڈ سی کے مطابق افسران نے گھروں کی تزئین و آرائش کیلئے ڈیمانڈ زیادہ کر دی ہے جبکہ دستیاب بجٹ کم ہے۔