"پیارے"

Khawar Naeem Hashmi

خاورنعیم ہاشمی

وہ ملا تھاحیدر آباد جیل میں '' پیارے'' رسول بخش پلیجو کی پارٹی کا کارکن تھا اور سیکڑوں سیاسی کارکنوں کی طرح ہمارے ساتھ پابند سلاسل تھا، ریاستی تشدد نے اس کے حوصلوں کو مزید جلا بخش دی تھی، میں چودہ اگست1978 کو مزار قائد اعظم سے گرفتار ہوا ،اخبارات میں ایک دن پہلے میرے گرفتاری دینے کی خبر چھپ گئی تھی،پولیس مزار قائد پر میری منتظر تھی، رات میں نے غلام نبی مغل کے گھر گزاری، مغل ہی نے مجھے مزار قائد تک پہنچایا،مغل نےمیرے گلے میں گلاب کے دو ہار ڈالے اور میں نے قائد اعظم کے مزار کی جانب دوڑ لگادی۔

پولیس والے میرے تعاقب میں دوڑے اور مجھے قابو کر لیا، اس سارے منظر میں یہ بات زیادہ اہم تھی کہ یوم آزادی کی صبح قائد کے مزار پر موجود ہزاروں لوگوں نے تالیاں بجا کر داد دی، پہلے تھانے لے جایا گیا، چند گھنٹوں کی کارروائی کے بعد ملٹری کورٹ میں پیش کیا ، جہاں چھ ماہ قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تو پولیس مجھے سنٹرل جیل میں جمع کرا آئی، ان دنوں کراچی جیل میں ممتاز بھٹو، این ڈی خان،حفیظ پیرزادہ اور سندھ کے دیگر سیاستدان بند تھے،،وڈیرے سیاستدانوں کو ان کی شان کے مطابق جیل کے بنگلوں میں رکھا گیا تھا، کھانا ان کے گھروں سے آتا، بیوی بچے سارا دن ساتھ رہتے، مجھے جس بیرک میں بھیجا گیا وہ طالبعلموں، ہاریوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں سے اٹی ہوئی تھی۔دو تین ہفتوں بعد مجھے کچھ اور ساتھیوں سمیت حیدر آباد جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں میری ملاقات ہوئی،، پیارے سے،،

حیدر آباد جیل میں ہمیں اس بیرک میں رکھا گیا جو فیض احمد فیض ، حبیب جالب، ولی خان اور انکے دیگرباغی ساتھیوں کے لئے بنائی گئی تھی، اب ہم اس بیرک سے فیض یاب ہو رہے تھے۔وسیع و عریض بیرک میں سو کے قریب قیدی ایک ساتھ رہ سکتے تھے، بہت بڑا صحن تھا ، کئی درخت تھے، اس بیرک میں رسول بخش پلیجو اور فاضل راہو بھی تھے۔ سندھ کی تمام جیلیں اس زمانے میں صحافیوں اور ان کے ہم سفروں سے بھری ہوئی تھیں، منہاج برنا اور نثار عثمانی سکھر جیل میں تھے،عبدالحمید چھاپرا ہمارے ساتھ تھے،مارشل لآ حکومت آزادی صحافت اور اخباری کارکنوں کے تحفظ روزگار کے حوالے سے ہمارے مطالبات ماننے اور ہم اپنی جدوجہد ترک کرنے پر تیار نہ تھے۔ دو عیدیں بھی اسی جیل میں گزریں ۔

ایک دن منہاج برنا صاحب کا پیغام ملا کہ کل سے تمام جیلوں میں قید ساتھی مطالبات تسلیم ہونے تک بھوک ہڑتال شروع کریں ۔۔ہم نے اس پیغام پر لبیک کہتے ہوئے جیل حکام کو آگاہ کر دیا، ان دنوں جیل کے سپرینٹنڈنٹ جماعت اسلامی کے لیڈر جان محمد عباسی کے بھائی تھے، وفاقی وزارت اطلاعات بھی جماعت اسلامی کے پاس ہی تھی۔بھوک ہڑتال شروع ہو گئی۔ جیل حکام نے سر توڑ کوششیں کہ لیکن ہمارا فیصلہ اٹل تھا، کیوں کہ یہ قیادت کافیصلہ تھا،روٹی نہ پانی۔ ہم سب سقراط بننے پر تلے ہوئے تھے، ہمارے نہلے پہ دہلا پھینکا جیل سپرینٹنڈنٹ نے۔۔ہماری ملاقاتوں پر پابندی لگا کر،، ملاقاتی سگریٹ،صابون، پھل لایا کرتے تھے۔یہ راستہ بھی بند کر دیا گیا یہ ایک بڑی جنگ تھی ، جسے ہر حالت میں ہمیں جیتنا تھا،مجھے تو بھوک مٹانے کا ایک نسخہ مل گیا، بیرک میں نمک پڑا تھا جو میں نے چھپا لیا۔

 پیارے جس کا تعلق پلیجو کی پارٹی سے تھا اور وہ ہمارے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے گرفتار ہوا تھا ، اس نے مشورہ دیا کہ تم درختوں کے پتے کھا لیا کرو،،،پتے کھائے جا سکتے ہیں؟ اس نے بتایا کی یہاں امرود کے درخت بھی ہیں اور ان کے پتے ذائقے میں کڑوے نہیں ۔۔۔ مجھے جینے کا ایک راستہ مل گیا۔۔ یہ بھوک ہڑتال انتیس دن تک چلی۔ اس کے بعد مارشل لاّءحکام نے ہماری مانگیں منظور کر لیں اور ہماری رہائیاں شروع ہو گئیں۔۔ میری رہائی کےدن میرے ساتھ کوئی اور نہیں رہا ہو رہا تھا۔ میں پریشان ہو گیا، جیب خالی تھی، حیدر آباد میں میرا جاننے والا بھی کوئی نہ تھا۔ میری یہ پریشانی دور کی فاضل راہو نے، انہوں نے مجھے اپنے گھر کا ایڈریس دیا اور کہا کہ کراچی پہنچنے کا کرایہ وہاں سے مل جائے گا۔ امرود کے درخت کے پتے کھانے کا مشورہ دینے والے پیارے کی رہائی کا پروانہ ابھی نہیں آیا تھا۔ وہ اس دنیا میں اکیلا تھا اور فل ٹائم سیاسی ورکر تھا۔ میں نے اس سے وعدہ لیا کہ رہائی کے بعد وہ میرے پاس لاہور آجائے گا۔

رہائی کاپھاٹک کھلنے سے پہلے جیل انتظامیہ نے مجھے چالیس روپے دیے، یہ قید کے دوران مجھ سے کرائی گئی مشقت کا معاوضہ تھا۰میرے لاہور پہنچنے کے چند ہفتے بعد پیارے بھی آگیا، بند اخبارات و جرائد تو ہماری جدوجہد سے کھل تو گئے تھے مگر کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ ایک دو مہینے گزر گئے تو مساوات کے کارکنوں کا ایک وفد بیگم نصرت بھٹو سے ملا، بیگم صاحبہ نے کہا کہ آپ لوگ فاروق لغاری سے ملیں وہ تنخواہوں کی ادائیگی کر دیں گے۔ ہم لوگ لغاری سے ملنے چلے گئے، وہ بہت رعونت سے ملا اور کہا، بیگم صاحبہ سے کہیں کہ اخبار ذوالفقار علی بھٹو کا ہے، میرا نہیں۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ لغاری کبھی نہ کبھی بھٹوز سے ہاتھ ضرور کرے گا۔ میں اچھرے والے گھر میں اکیلا تھا، پیارے کے آجانے کے بعد تنہائی دور ہوگئی، وہ گھر کے سب کام کرتا، کھانا بھی پکا لیتا، دکانداروں سے ادھار بھی لے آتا، لہر میں ہوتا تو گانا بھی سنا دیتا۔

میں پیسوں کے لئے کبھی کبھی'' دھنک ''کے لئے کوئی فیچر لکھ دیتا۔ لاہور سے روزنامہ جنگ کا اجرا ہو رہا تھا۔۔ بہت چرچا تھا جنگ کی آمد کا۔ اس زمانے میں نئی فلموں کی پبلسٹی دیواروں پر کی جاتی تھی۔۔جنگ کی آمد کا اعلان دیواروں پر بھی کیا جا رہا تھا،، لاہور میں جنگ کراچی پہلے ہی پاپولر تھا،، کئی بڑی مارکیٹوں میں دوپہر کے بعد دیکھا جا سکتا تھا۔ میں بے شمار رکاوٹوں کو عبور کرکے پہلا شمارہ نکالنے والے کارکنوں میں شامل ہو گیا، پیارے میرے لباس، جوتوں ، صبح جلد جاگنے، سب چیزوں کا دھیان رکھتا ۔ جنگ میں ملازمت کے چار پانچ ماہ بعد۔ ایک رات ۔اچانک آٹھ دس کمانڈو گھر میں گھس آئے، دو نے پیارے کو دبوچا اور میرے کمرے میں آ گئے۔۔ تمہارے خلاف ایک مقدمہ ہے ہمارے ساتھ چلو۔ گھر کے باہر چار پرائیویٹ گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ایک میں مجھے بٹھایا گیا۔ پہلے سمن آباد تھانے گئے، وہاں کچھ لوگ گاڑیوں سے اتر گئے جو شاید پولیس اہلکار تھے، پھر تھانہ پرانی انار کلی پہنچے اور مجھے لاک اپ میں ڈال دیا۔ میرے کسی سوال کا کسی نے کوئی جواب نہ دیا، لاک اپ میں کچھ لوگ سو رہے تھے ، کچھ جاگ رہے تھے، روٹی پانی بھی وہیں ،رفع حاجت بھی وہیں۔ مجھے گھر سے اٹھانے والے چار مختلف ریاستی ایجنسیوں کے اہلکار تھے، 

مجھے سب مارشل لاّ ایڈ منسٹریٹر کی اسی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں چار سال پہلے مجھے کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔ تھانہ پرانی انار کلی کا ایک انسپکٹر مجھے ہتھکڑیاں پہنا کر یہاں لایا۔ ہم فوجی عدالت کے باہر کھڑے تھے۔ ایک اور پولیس افسر ہمارے قریب آیا، اور انسپکٹر کے ہاتھوں میں پکڑی میرے جرائم کی فہرست دیکھنے لگا، اس کی زبان سے نکلا۔ کیس تو بہت مضبوط ہے۔ میں نے بے ساختہ ان دستاویزات کو دیکھا، میری نظر صرف۔ زیر دفعہ 302 تک پہنچی۔ مجھ پر ایک قتل بھی ڈالا گیا تھا،، کہتے ہیں کہ تین سو دو کسی درخت پر بھی لگ جائے تو وہ سوکھ جاتا ہے، لیکن میں قطعی خوفزدہ نہ ہوا۔

میرا ریمانڈ ہوا اور پھر آنکھوں پر پٹی ڈال کر شاہی قلعہ کے عقوبت خانے میں پہنچا دیا گیا۔ پانچ ماہ بعد مجھے خطرناک قرار دے کر لال قلعہ کے زیر زمین عقوبت خانے میں لے گئے۔ لال قلعہ لاہور کے وارث روڈ پر لاہور کالج برائے خواتین کی دیواروں سے ملحق تھا ، اب اسے مسمار کر دیا گیا ہے۔ دو ماہ کے تشدد کے بعد مجھے پھر شاہی قلعہ لایا گیا۔ بھلا ہو بیرسٹر اعتزاز احسن کا انہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے میری ضمانت کرا لی۔ ضمانت کے بعد شاہی قلعے کی مغلیائی دیواروں سے آزاد ہوا تو توقع نہ تھی کہ باہر کوئی میرا منتظر ہوگا۔ لیکن ایک نہیں دو آدمی میرے انتظار میں تھے۔ ایک پیارے اور دوسرا میرا بھائی ڈاکٹر اختر۔ ہم شاہی قلعہ سے باہر نکل رہے تھا، اچانک پیارے نے میرے ہاتھ میں چار سو روپے تھما دیے۔ پیارے کہاں سے آئے تمہارے پاس یہ روپے؟ ‘‘آپ قید ہو گئے تو میں نے رات کو پٹرول پمپس پر رکشے دھونے شروع کر دیے، روٹی کھانے کے بعد جو بچتا آپ کے لئے جمع کر لیتا کہ آپ واپس آئیں گے تو آپ کو ضرورت ہوگی پیسوں کی‘‘یہ تھا پیارے۔۔۔

(ایک ضروری نوٹ)

کراچی حیدرآباد اور اندورن سندھ سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی پیارے کے بارےمیں کوئی معلومات رکھتا ہو تو مجھ سے ضرور آگاہ کرے۔