سی سی پی او سے اختلافات 8 اعلیٰ افسر لاہور چھوڑنے پر تیار

سی سی پی او سے اختلافات 8 اعلیٰ افسر لاہور چھوڑنے پر تیار

کوئنز روڈ(عرفان ملک) لاہور سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس میں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ افسروں کی دلچسپی کم ہونے لگی۔

پولیس حکام اختیارات کے تنازعات میں الجھ گئے، گزشتہ دس دن سے کیس کی تحقیقاتی ٹیم کا اجلاس تک نہ ہوا، ملزم آزاد اورافسروں ملزم کی گرفتاری پر کم اور تبادلوں کی دوڑ میں زیادہ آگے نکلنے لگ گئے۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ اور ماتحت افسروں میں اختلافات اس قدر بڑھے کہ افسر لاہور میں کام کرنے کو تیار نہیں، مختلف ڈویژنز اور سرکل کے 8 افسر تبادلے کی کوشش کرنے لگے۔

رواں سال کے ہائی پروفائل کیس کی فائل پردھول جمنے لگی، 10 روز تک کیس کی تفتیشی ٹیم کا اجلاس تک نہ ہوا، زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی گرفتار ہوا اور نہ ہی تفتیش کے تقاضے مکمل ہوئے، سب کچھ زبانی جمع خرچ تک محدود ہے۔تمام تر صورتحال پرپولیس نے چپ سادھ لی جبکہ حکومتی وزراء دعوؤں پردعوے کیے جارہے ہیں ۔

واضح رہےکہ 9 ستمبر کی رات لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا  تھا، دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا، پولیس ابھی تک مرکزی ملزم کو گرفتار نہیں کرسکی، پولیس نے مرکزی ملزم عابد کے 7 مختلف خاکے بھی تیار کئے تھے، وزیراعلیٰ پنجاب نے ملزم کی گرفتاری پر مدد کرنےپر 25لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کررکھا ہے  ۔