ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ق لیگ کے قائدین میدان میں آگئے


علی اکبر: ملک کی موجودہ صورتحال میں ق لیگ کے قائدین بھی میدان میں آگئے،  چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت عمران خان کی سربراہی میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساری اپوزیشن جماعتیں بھی اس کواہمیت دے رہی ہیں لیکن بیرونی قوتوں نے ملک کو ایک اور بحران میں پھنسا دیا ہے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 3بجے 14 نومبر2018  

تفصیلات کے مطابق چودھری شجاعت حسین نے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مشائخ عظام سے درخواست کی ہے کہ اس بحرانی کیفیت سے ملک کو نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں، خاص طور پر حضرت مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، مولانا طارق جمیل، مفتی غلام محمد سیالوی، مولانا حنیف جالندھری، علامہ ثاقب رضا مصطفائی، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ زاہد الراشدی اور شفاء شاہ بخاری صاحبان کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے، سب سے بڑھ کر افواج پاکستان اور آرمی چیف کے متعلق جو زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ مسلح افواج اور آرمی چیف کو مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، احتجاج کرنے والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ حضرات پہلے فیصلہ تفصیل سے پڑھ لیں اور اگر فیصلے میں کوئی کمی ہے تو سپریم کورٹ میں اس کی ریویو کی گنجائش موجود ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔

چودھری پرویز الہی نے مزید کہا کہ چودھری ظہورالٰہی شہید کی قیادت میں ہمارا گھر ختم نبوت تحریک کا مرکز تھا اور انشاء اللہ رہے گا، جب بھی تحفظ ختم نبوت کی بات ہو گی ہم پیش پیش ہوں گے۔