ریلوے شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ سالانہ ہدف پورا کرنے میں ناکام

ریلوے شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ سالانہ ہدف پورا کرنے میں ناکام

( سعید احمد سعید ) ریلوے شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ کیجانب سے سالانہ کارکردگی رپورٹ مرتب، شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ مجموعی طور پر سالانہ ہدف پورا کرنے میں ناکام، شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ 2 ارب روپے ٹارگٹ میں سے صرف ڈیڑھ ارب ہی ریکوری کر سکا۔ دوسری جانب ڈی ایس ریلوے لاہور کی کامیاب منصوبہ بندی سے لاہور ڈویژن کیجانب سے ریکارڈ ریکوری کی گئی۔

ریلوے شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ کی جانب سے مالی سال 20-2019 کی سالانہ رپورٹ مرتب کر لی گئی، رپورٹ کے مطابق ریلوے شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ مجموعی طور پر سالانہ ہدف پورا کرنے میں ناکام رہی۔ شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ 2 ارب روپے ٹارگٹ میں سے صرف ڈیڑھ ارب ہی ریکوری کر سکا۔ ریلوے شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ نے ساتوں ڈویژن کی رپورٹ مرتب کی۔ جس میں سے ریلوے لاہور ڈویژن شعبہ  پراپرٹی اینڈ لینڈ ہدف سے زیادہ ریکوری کی گئی۔

لاہور ریلوے ڈویژن کو پراپرٹی اینڈ لینڈ ریکوری کی مد میں 40 کروڑ روپے کا ٹارگٹ دیا گیا۔ لاہور ڈویژن نے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کرکے 61 کروڑ روپے کی ریکوری کی۔ لاہور ڈویژن کی جانب سے اہداف سے 50 فیصد سے زائد ریکوری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملتان ڈویژن 40 کروڑ ٹارگٹ میں سے صرف 20 کروڑ روپے، کراچی ڈویژن بھی صرف 20 کروڑ روپے، راولپنڈی ڈویژن 25 کروڑ ٹارگٹ میں سے صرف 9 کروڑ60 لاکھ روپے جبکہ سکھر ڈویژن 15کروڑ ٹارگٹ میں سے صرف 7 کروڑ ستر لاکھ روپے ریکور کر سکی۔

ورکشاپ ڈویژن کو پانچ کروڑ روپے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا، ورکشاپ ڈویژن کی جانب سے 6 کروڑ اسی لاکھ روپے کی ریکوری کی گئی، کوئٹہ ڈویژن کو دس کروڑ روپے عیکوعی کا ٹارگٹ دیا گیا جس میں سے دو کروڑ چالیس لاکھ روپے ریکوری کی گئی۔ اسی طرح پشاور ڈویژن کو 25 کروڑ روپے ریکوری کا ٹارگٹ دیا گیا تھا مگر انکی جانب سے 20 کروڑ اور چار لاکھ روپے کی ریکوری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ریلوے کی آٹھوں ڈویژنوں سے کل مجموعی طور پر ایک ارب پچاس کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی، ڈی ایس ریلوے عامر نثار کی بہترین منصوبہ بندی سے لاہور ڈویژن کیجانب سے سب سے زیادہ ریکوری کی گئی۔