34 سال سے کیس التواء کا شکار، چیف جسٹس کا اظہار برہمی

34 سال سے کیس التواء کا شکار، چیف جسٹس کا اظہار برہمی

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ میں پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی اراضی کیس کی سماعت، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے 34 سال سے التواء کا شکار درخواست پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایل ڈی اے نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے ، خدا کا نام لیں لوگوں کو زندہ رہنے دیں۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی اراضی کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ پیش ہوئے۔ درخواستگزارنے کہا معاملہ چونتیس سال سے زیر التواء ہے، شنوائی نہیں ہورہی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ایل ڈی اے نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے، خدا کانام لیں لوگوں کو زندہ رہنے دیں، آپ اپنی نالائقی لوگوں پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ 

چیف جسٹس نے ایل ڈی اے کے وکیل صاحبزادہ مظفر سے استفسار کیا کہ کتنا عرصہ ایوارڈ جاری نہیں کیا، وکیل نے بتایا کہ 34 سال سے اب ایوارڈ جاری نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک نسل ختم ہو جاتی ہے لیکن ایل ڈی اے نے تو بے بسی کی انتہاء کی ہوئی ہے۔ اس عرصے میں جتنےافسر آج تک رہےاُن کو کرورڑوں روپے جرمانہ ہونا چاہیے، آپ کے ایل ڈی والے عقل سے کام کیوں نہیں لیتے ہیں۔ عدالت نےوکیل سے کہاکہ کوئی حد ہوتی ہے بے حسی کی۔

ایل ڈی اےوکیل نےاستدعاکی کہ یہ کیس ڈی جی ایل ڈی اے کو بھیج دیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آج 34 سال بعدکیس ڈی جی کوکیوں بھیجوں، ان کو جیل کیوں ناں بھیجوں، چیف جسٹس نےکہاکہ اگلےہفتے کیلئےکیس رکھ رہا ہوں۔اگر کچھ کر سکتے ہیں تو کر لیں، وگرنہ اس پر بھاری جرمانہ کروں گا۔معاملہ اینٹی کرپشن کوبھیجناپڑاتوبھیجوں گا،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 فروری تک ملتوی کردی۔