ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت کی پانچ ریاستوں میں چناؤ کے نتائج، کانگرس کےمستقبل کا تعین کل ہو گا

Indian National Congress, Bhartiya Junta party, BJP, KCR, BRS, Bhajpa, Madhya Pradesh, Telangana, Rajasthan, Chhattisgarh, Congress, Modi, Rahul Gandhi, City42
بھارت کی پانچ ریاستوں میں چناؤ کے نتائج، کانگرس کےمستقبل کا تعین کل ہو گا
Indian National Congress, Bhartiya Junta party, BJP, KCR, BRS, Bhajpa, Madhya Pradesh, Telangana, Rajasthan, Chhattisgarh, Congress, Modi, Rahul Gandhi, City42
بھارت کی پانچ ریاستوں میں چناؤ کے نتائج، کانگرس کےمستقبل کا تعین کل ہو گا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بھارت میں ریاستی اسمبلیوں کے حالیہ الیکشن کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل کل 3 دسمبر کو شروع ہو گا۔ ان پانچ ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور میزورم کے متعلق 30 نومبر کو  بھارت کی روایت کے مطابق کئی ایگزٹ پول ہوئے۔ ان ایگزٹ پولز  کی پیشین گوئیاں عوام کے مزاج اور تازہ ترین سیاسی رجحانات پر روشنی ڈال رہی ہیں۔

تلنگانہ میں پولنگ ختم ہونے کے بعد 2023 کے آخری ریاستی اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول کے نتائج جمعرات 30 نومبر کی شام 6.30 بجے سے آنا شروع ہو  گئے۔  یہ بھارت میں 2024 کے عام انتخابات سے پہلے آخری بڑے اسمبلی انتخابات ہیں۔ ان  پانچ ریاستوں  مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور میزو رم  کے انتخابی نتائج  آئندہ سال بھارت کی لوک سبھا اور وزیراعظم کے انتخاب سے مہینوں پہلے، عوام کے مزاج اور رجحانات کا اندازہ لگانے میں مدد کریں گے۔ یہ انتخابات اپوزیشن کی جماعتوں کے انڈیا بلاک کی حتمی تشکیل کے لیے بھی فیصلہ کن عنصر ثابت ہو ں گے۔

پانچ ریاستوں میں سے آخری الیکشن تلنگانہ میں جمعرات 30 نومنبر کو ہوا۔ اس الیکشن طویل عرصہ سے تلنگانہ کی سیاست سے باہر نکال دی گئی کانگرس کو  تیلگو قوم پرست جماعت بھارت راشٹرا سمیتھی (بی آر ایس) کے مقابلہ میں غیر معمولی کامیابی ملنے کی امید ہے۔ جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس الیکشن میں مسلمان جماعت وحدت المسلمین سے بھی  پیچھے ہے۔ تلنگانہ میں کامیابی سے انڈیا کنسورشیم کے اندر کانگریس پارٹی کی میں بھی اضافہ ہوگا اور  انڈیا الائنس بی جے پی کے لیے ایک زیادہ سخت  چیلنج بن کر ابھرے گا۔
یہ امر یقینی ہے کہ  تلنگانہ میں کانگریس کی کئی دہائیوں بعد واپسی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی تعداد کو ممکنہ طور پر بڑھا سکتی ہے۔  اور تیلگو ریاستوں میں کانگرس کی کئی دہائیاں پرانی مقبولیت کی بحالی کا راستہ کھول سکتی ہے۔

راجیو گاندھی نے کس طرح ایک وزیر اعلیٰ کی توہین کر کے 'تیلگو فخر' تحریک کو جنم دیا۔
جمعرات 30 نومبر کے ریاستی الیکشن کے بعد ایگزٹ پول کے نتائج کو دیکھیں تو کانگریس کو تلنگانہ میں وزیر اعلیٰ  KCR زیر قیادت بھارت راشٹرا سمیتی پر برتری حاصل ہے۔ یہ کانگریس کے لیے ایک انقلاب آفرین کامیابی ہے۔ کانگرس نے 1982 میں راجیو گاندھی اور غیر منقسم آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر ٹی انجیا کے درمیان ایک واقعے کے نتیجے میں تیلگو ریاستوں میں  تیلگو غیرت کے جذبات ابھار کر خودمقبولیت کھو دی تھی۔
1982 میں، آندھرا پردیش کے اس وقت کے وزیراعظم راججیو گاندھی نے آندھرا کے وزیر اعلیٰ ٹی انجیا کو  ائیرپورٹ پر سب کے سامنے ڈانٹ دیا تھا۔یہ  سرعام ڈانٹ ڈپٹ ریاست میں کانگریس کیلئے بہت مہنگی ثابت ہوئی اور تیلگو زبان پولنے والے وسیع علاقہ میں قوم پرستی کی لہر چل پڑی تھی جس کے نتیجہ میں کانگرس اس سارے علاقہ کی سیاست سے باہر نکل گئی۔ اس عمل کے بعد کانگرس کو تلنگانہ میں واپسی کے لئے کئی دہائیوں تک سخت محنت کرنا پڑی تب بھی مقامی سیاست میں اس کی جگہ نہ بنی تاہم اب راہول گاندھی کی قیادت میں کانگرس نے ناممکن کو  ممکن کر دکھایا اور  تلنگانہ میں جمعرات 30 نومبر کو 119 اسمبلی سیٹوں کے لیے انتخابات میں کانگرس دو ٹرمز سے مسلسل وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ جنہیں کے سی آر کہا جاتا ہے، کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئی۔ 

اگر کانگریس انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ عظیم پرانی پارٹی کی ریاست میں زبردست واپسی ہوگی، جسے کئی دہائیوں سے 'تیلگو آتماگوروم' یا تیلگو عزت نفس کے جذبات کاا نشانہ بننا پڑ رہا تھا۔ تلنگانہ تحریک نے غیر منقسم آندھرا پردیش سے کانگریس کا تقریباً صفایا کر دیا تھا۔ 'تیلگو آتماگوروم پر فتح پا کر کانگرس ملک بھر میں تیلگو بولنے والے ووٹرز میں مزید مقبولیت کی امید رکھ سکتی ہے۔

ایگزٹ پولز مین کانگرس کو تلنگانہ میں 63 سے 80  تک نشستیں ملنے کی امید بتائی گئی ہے جبکہ آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین کو 5 سے 7 تک نشستیں مل سکتی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ مین بمشکل چار پانچ نشستیں جیتتی دکھائی دے رہی ہے۔ تلنگانہ اسمبلی کی 119 نشستوں پر الیکشن ہوا ہے۔

مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان

بی جے پی اور کانگریس تین ریاستوں – مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں براہ راست مقابل ہیں۔  اگرچہ گزشتہ 10 سالوں میں کانگریس کی قومی موجودگی ختم ہوگئی تھی، لیکن  کانگرس پارٹی ان تین ریاستوں میں مضبوط رہی ہے۔ 2018 میں، کانگریس ان تین ریاستوں میں یا تو جیت گئی تھی یا ان تینوں ریاستوں میں واحد سب سے بڑی پارٹی تھی۔ پارٹی نے تینوں ریاستوں میں حکومتیں بنائیں۔ تاہم، مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت تقریباً 15 ماہ بعد اس کے ایم ایل ایز کی بغاوت کی وجہ سے گر گئی، جو مرکز میں نریندر مودی کی حکومت بننے کے بعد بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے۔
اب 30 نومبر کو ہونے والے ایگزٹ پولز مدھیہ پردیش میں کانگرس کی پوزیشن قدرے کمزور بتا رہے ہیں جہاں 2018 میں کانگرس کی حکومت بن کر ٹوٹ گئی تھی اور اس کے بہت سے الیکٹیبل سیاستدان ٹوٹ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں چلے گئے تھے۔ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں اقتدار کی حامی لہر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے اشارے مل رہے ہیں تاہم راجستھان مین بھی ایگزٹ پولز بھارتیہ جنتا پارٹی کو کانگرس پر معمولی برتری لیتے دکھا رہے ہیں۔ اگر یہ پیش گوئیاں 3 دسمبر کو  ریاستی چناؤ کے نتائج کے اعلان کے روز  بھی برقرار رہتی ہیں، تو کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں بڑے اندرونی انتشار کا مشاہدہ کریں گے اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا پرست جماعتوں کے اتحاد  این ڈی اے اور مشترکہ اپوزیشن کے انڈیا الائنس کے درمیان کھلی جنگ میں کانگرس کا پلہ بھاری ہونے کی توقع بندھ جائے گی۔

ایسا ہو گیا تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت کو اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے کچھ بہت بڑا کرنا پڑے گا جو پاپولسٹ اقدامات سے لے کر فرقہ وارانہ تشدد تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔


تلنگانہ مسکرانے کی وجہ ہو سکتا ہے

137 سال پرانی کانگریس پارٹی کے پاس 3 دسمبر کو خوشی منانے کی بڑی وجوہات ہوں گی چاہے وہ پانچ مین سے سب سے بڑی اور 2024 کے عام انتخابات کے حوالے سے مرکزی ریاست مدھیہ پردیش میں ہار جائے۔ تب بھی تلنگانہ میں جیت ملیکارجن کھرگے، راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کے لیے ایک اہم لمحہ ہوگی۔ پہلی بار، کانگریس کسی علاقائی کجماعت کے ہاتھوں اقتدار کھونے کے بعد کسی ریاست کو واپس لینے کا معجزہ ہوتے دیکھے گی۔

عصری تاریخ میں، انڈین نیشنل کانگریس اڈیشہ، اتر پردیش، بہار، بنگال، دہلی، آندھرا پردیش، اور شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں اپنی سیاسی بنیاد علاقائی پارٹیوں اور  کانگرس سے ہی ٹوٹی ہوئی کانگریسی تنظیموں کے حوالے کرنے پر مجبور ہوئی جو کبھی بحال یا دوبارہ حاصل نہیں ہوسکی۔ اس لحاظ سے، اگر ایگزٹ پول کے اعداد و شمار درست ہیں، تو 3 دسمبر کو کھرگے اور راہل کی قیادت میں کانگریس کے پاس مسکرانے اور جشن منانے کی وجوہات ہوں گی۔
تلنگانہ میں کامیابی سے انڈیا  الائنس بی جے پی کے لیے ایک مضبوط چیلنج بن کر ابھرے گا۔  پانچ جنوبی ریاستوں کرناٹک، کیرالہ، تامل ناڈو، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں لوک سبھا کی 135 سیٹیں ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس کی جیت ممکنہ طور پر 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی تعداد میں اضافہ کر سکتی ہے اور کانگریس کو اس بات پر زور دینے میں مدد کر سکتی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو سارے جنوبی بھارت میں رد کیا جا رہا ہے اور وہ بھارت کو اکٹھا رکھنے کے لئے موزوں شخصیت نہیں ہیں۔  تلنگانہ کی کامیابی کا سارا کریڈٹ راہول گاندھی اور ان کی بھارت جوڑو یاترا کو جائے گا۔

مدھیہ پردیش میں بھاجپا کی جیت کے عواقب، چوہان مودی کا ڈراؤناخواب

مدھیہ پردیش اور راجستھان کے ایگزٹ پول سب سے زیادہ حیران کن اور چیلنجنگ ہیں۔ Today's Chanakya اور Axis-My India کے نتائج سے شیوراج سنگھ چوہان کی مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں ریکارڈ چوتھی بار جیت کی پیشین گوئی کر رہے ہیں۔ شیو راج  چوہان پہلے ہی بی جے پی کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اگر مدھیہ مین بھاجپا کو واقعی اکثریت مل گئی تو  مودی اور ان کے نائب امیت شاہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج  خود سے زیادہ وزنی ہوتے شیو راج چوہان کو سنبھالنا ہو گا۔ مودی انہیں بھوپال میں برقرار رکھتے ہیں یا انہیں قومی سیاست میں بڑے کردار سے نوازتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں، چوہان، ان کی خواہشات کے خلاف، آنے والے سالوں میں نریندر مودی کے بعد کے دور میں اعلیٰ عہدے کے دعویدار کے طور پر ابھریں گے۔

کانگرس کے لئے مدھیہ پردیش میں ناموافق نتائج کے مضمرات

مدھیہ پردیش میں کانگریس پارٹی کی شکست  اس ریاست میں پرانے جنگی گھوڑوں کمل ناتھ اور ڈگ وجئے سنگھ کے لیے ایک دل دہلا دینے والا لمحہ ہوگی۔ یہ ناتھ سنگھ جوڑی کے غروب آفتاب کا بھی آغاز ثابت ہو گی۔  لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ  واقعی شکست ک ہو گئی تو کانگرس کو مدھیہ پردیش مین وزارت اعلیٰ کے دوبارہ حصول کیلئے طویل بیابان گردی کرنا پڑے گی۔مدھیہ پردیش میں کانگرس کے جیتو پٹواری، کملیشور پٹیل، نکول ناتھ، اور جے وردھن سنگھ جیسے لوگوں مین سے کسی کو کسی بھی قسم کا چیلنجر بننے کے کئی سال درکار ہوں گے۔ کانگریس نے 2018 میں مدھیہ پردیش میں اقتدار کا مزہ چکھا تھا لیکن تب دہلی پر مودی کا غیر معمولی غلبہ اسے بھوپال مین قدم جمانے کا موقع نہیں دے رہا تھا۔

مدھیہ پردیش الیکشن کے نتائج ایگزٹ پول سے مختلف ہو سکتے ہیں

مدھیہ پردیش ایگزٹ پولز کے متعلق سابق ایم پی اور مدھیہ کے سابق وزیر علیٰ کمل ناتھ کا کہنا ہے کہ ’’کچھ ایگزٹ پول جان بوجھ کر کانگریس کارکنوں کو مایوس کرنے، افسروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے بنائے گئے،‘‘ 

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے جمعہ کو  بیان دیا کہ کچھ ایگزٹ پول جان بوجھ کر کانگریس کارکنوں کو مایوس کرنے اور غلط ماحول بنا کر افسران پر دباؤ ڈالنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

کمل ناتھ نے ایک ویڈیو میں یہ تبصرہ کیا جسے انہوں نے اپنے X ہینڈل پر شیئر کیا، بعض لوگ کمل ناتھ کے اس بیان کو  اپنی پارٹی کے کارکنوں کو  3 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی تک مایوسی سے بچانے اور چوکنا رکھنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مدھیہ کے متعلق ایگزٹ پولز آنے سے پہلے بھاجپا کا برا حال تھا اور اس کے کارکن تو الگ، بڑے بڑے لیڈر بھی بوکھائے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ 

راجستھان کا معمہ

ایک بار پھر، ایگزٹ پول کی پیشین گوئیوں کے مطابق، راجستھان کا نتیجہ گاندھیوں اور کھرگے کے لیے ایک کڑوی گولی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ چوہان سے متعلق بی جے پی قیادت کی پریشانی کی طرح، کانگریس کی مرکزی قیادت ریاستی انتخاب جیت کر بھی پریشانیوں میں گھری رہے گی۔  اشوک گہلوت کو  قیادت کا تاج پہنانے میں بڑی رکاوٹ سچین پائلٹ ہیں۔  راہول گاندھی کو سچن پائلٹ کو مزید پانچ سال باہر بیٹھنے پر راضی کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے جو یقیناً آسان نہیں ہو گا۔ شاید پرینکا گاندھی تلنگانہ یا کرناٹک کے لیے تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے پائلٹ پر غالب آ پائیں گی۔


چھتیس گڑھ میں بگھیل کنارے پر لگ جائیں گے؟

تلنگانہ کی طرح چھتیس گڑھ کے ریاستی الیکشن کے بعد  ایگزٹ پول کے نتائج نے کانگریس کو کچھ سکون پہنچایا ہے۔ تاہم کامیابی کا مارجن کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔  بھوپیش بگھیل کو اکظریت برقرار رکھنے کے لئے ہت سے لوگوں کو مطمئین رکھنا پڑے گا۔  چھتیس گڑھ مین کانگرس کو واضح اکثریت حاصل ہو گئی تو  یہاں سے لوک سبھا الیکشن میں بھی کانگرس کو اچھی مدد ملے گی تاہم اگر معمولی اکثیرت سے جوڑ توڑ کر کے حکومت بنانا پڑا تو  اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ لوک سبھا انتخابات کے قریب گرمی بڑھ جائے گی۔

اگلے 48 گھنٹے بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے راتوں کی نیند سے محروم رہیں گے ، محض ان کی آنے والی کامیابی ک یا ناکامی کے تناظر میں نہیں بلکہ علاقائی شہنشاہوں کو قابو کرنے کی نئی پریشانیوں سے نمٹنے کے ضمن میں بھی۔