پانامہ لیکس, ایف بی آر سرمایہ کاروں کا ریکارڈ حاصل کرنےمیں ناکام

رضوان نقوی :ایف بی آر کو پانامہ لیکس کی تحقیقات میں ناکامی کا سامنا، پانامہ لیکس میں ملوث سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات نادرا سے حاصل نہ ہو سکیں، بیشتر سرمایہ کاروں کے ایڈریس ہی نہ مل سکے.

 ایف بی آر نے ملک بھر کے ریجنل ٹیکس دفاتر کو پانامہ لیکس میں ملوث سرمایہ کاروں کے خلاف کارروائی کیلئے فہرستیں بھجوائی تھیں۔ ریجنل ٹیکس دفاتر کو پانامہ لیکس میں ملوث سرمایہ کاروں کا ریکارڈ مرتب کرنےمیں مشکلات کا سامنا ہے۔شریف خاندان کےبچوں کی تفصیلات بھی حاصل نہیں کی جا سکیں۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق حسن نوازاورحسین نوازکو پانامہ لیکس میں نام آنےکے بعد نوٹسز جاری کیے گئے تھے تاہم شریف خاندان نے نوٹسز وصول نہیں کیے تھے، جس کیلئے جواز پیش کیا گیا تھا کہ حسن اور حسین نواز"نان ریذیڈنٹ"کیٹیگری میں آتےہیں۔

ان پر مقامی انکم ٹیکس قوانین کا اطلاق نہیں ہوتاہے۔ایف بی آرذرائع کا کہنا ہےکہ حسن اورحسین نوازکی سفری دستاویزات حاصل کرلی گئی ہیں تاکہ نان ریزیڈنٹ ہونے کی چھان بین کی جاسکے۔