کورونا کی ایک نئی قسم ''مو''   نے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی

 کورونا کی ایک نئی قسم ''مو''   نے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ کورونا کی ایک نئی قسم ''مو''  پر ویکسین بھی موثر نہیں، سمجھنے کیلئے مزید تحقیق کرنا ہوگی۔

عالمی  میڈیا کی رپورٹ  کےمطابق ''مو'' نامی نئے کورونا ویرئنٹ کا سائنسی نام ’بی.1.621‘ ہے جس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ'' مو'' ویریئنٹ میں ہونے والی جنیاتی تبدیلیوں کے خلاف ویکسین کے مؤثر نہ ہونے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے زور دیا ہے کہ وائرس کی اس نئی قسم کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ مو وائرس کی عالمی سطح پر موجودگی کی شرح 0.1 فیصد سے کم ہے جبکہ کولمبیا میں 39 فیصد ہے۔ مو وائرس کی کولمبیا میں شناخت کے بعد یورپ اور دیگر جنوبی امریکی ممالک میں بھی اس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق مو وائرس میں مدافعتی عمل کو نظر انداز کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ نے ان افراد کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہوئی تھی یا جن علاقوں میں وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔عالمی ادارہ صحت کووڈ 19 کی چار اقسام کی شناخت کر چکا ہے جن میں سے ایلفا 193 ممالک میں جبکہ ڈیلٹا وائرس 17 ممالک میں موجود ہے۔ جبکہ ''مو'' سمیت دیگر پانچ اقسام کو فی الحال مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے۔