لاہور پولیس نجی ٹارچر سیل بنانے سے باز نہ آئی

لاہور پولیس نجی ٹارچر سیل بنانے سے باز نہ آئی

( عابد چوہدری ) لاہور پولیس کے نجی ٹارچر سیل کا انکشاف، انچارج چوکی اڈا پلاٹ کا حویلی میں ٹارچر سیل پکڑا گیا۔

پنجاب پولیس کی وردی تو بدل گئی مگر قبلہ درست نہ ہو سکا۔ لاہور پولیس کے ایک اور نجی ٹارچر سیل کا انکشاف ہوا ہے۔ انچارج چوکی اڈا پلاٹ کا حویلی میں ٹارچر سیل پکڑا گیا، چوکی انچارج حیدر اور تھانیدار ساجد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر حیدر نے حویلی لیاقت علی میں ٹارچر سیل بنا رکھا تھا۔

سب انسپکٹر نے ٹارچر سیل میں شہری پر بیہمانہ تشدد کیا۔ سی سی پی او عمر شیخ کے مطابق اختیارات سے تجاوز کرنے پر چوکی انچارج اڈا پلاٹ سمیت نیکے تھانیدار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ چوکی انچارج سب انسپکٹر حیدر علی اور ساتھی تھانیدار ساجد علی کو معطل و کلوز لائن بھی کر دیا گیا۔

چوکی انچارج اور تھانیدار نے چار افراد کو حبس بے جاء میں رکھنے کے انکشاف پر دونوں اہلکاروں کےخلاف انکوائری کروائی گئی اور انکوائری میں چوکی انچارج اور تھانیدار کی طرف سے چار افراد کو حبس بے جاء میں رکھنے کے الزامات درست ثابت ہوئے۔ سب انسپکٹر حیدر علی اور اے ایس آئی ساجد کے خلاف تھانہ رائیونڈ میں حبس بے جاء اور فرائض میں غفلت پر مقدمہ درج کیا گیا۔ سی سی پی او کا کہنا ہے کہ اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکار محکمہ پولیس میں نہیں رہیں گیں۔

ادھر کرپشن کیلئے مجرموں کو تحفظ دینے پر سابق ایس ایچ او نواب ٹاؤن تیمور عباس کےخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ کے مطابق سابق ایس ایچ او نواب ٹاؤن نے بغیر ملکیتی تصدیق گاڑیوں کی چوری کے مقدمات درج کئے۔ سابق ایس ایچ او نے ملزم خرم شہزاد کو تحفظ دیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق سابق ایس ایچ او کا یہ امر طمع نفسانی، فرائض سے پہلو تہی اور اختیارات سے تجاوز کرنا تھا۔

سی سی پی او عمر شیخ کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے کاروبار میں فراڈ، دھوکہ دہی اور سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے والے ملزم کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دیدی گئی ہیں۔ خرم شہزاد نامی ملزم رینٹ اے کار کا کاروبار کرتا، گاڑیوں کو خورد برد کروا کر اپنی مدعیت میں چوری کی ایف آئی درج کروا دیتا، اختیارات سے تجاوز اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔