پسند کی شادی نے 22 سالہ لڑکی کو موت کی نیند سلادیا

پسند کی شادی نے 22 سالہ لڑکی کو موت کی نیند سلادیا

(عابدچودھری) لاہور کے علاقےمصطفیٰ آباد میں 22 سالہ شادی شدہ لڑکی نےمبینہ طورپر خودکشی کرلی،گلے میں پھندا ڈال کر زندگی کا خاتمہ کیا ۔شبانہ کی چار سال قبل شادی ہوئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق شہر میں جرائم کے بڑھتے ہوئے لزرہ خیزواقعات کی وجہ سے خوف ووہشت کی نئی فضا قائم ہوچکی ہے،چوری، ڈکیتی، راہزانی، زیادتی اور قتل کے سنگین واقعات سائے کی طرح عوام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اس خوفناک وارداتوں میں زیادہ نشانہ خواتین اور بچے بن رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خودکشیوں کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ گھریلو ناچاقی ہے، عدم برداشت اور معمولی تلخ کلامی پر اتنا موت کو گلے لگانا حمایت ہے۔

لاہور کے علاقہ مصطفیٰ آباد  میں شادی شدہ لڑکی نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا،شبانہ نامی لڑکی کی شادی چار سال قبل مصطفیٰ آباد  کے رہائشی جبران کے ساتھ ہوئی،گھر میں اکثر جھگڑا رہتا تھا جس پر شوہر کی جانب سے تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا، شوہر اور سسرالیوں کے ظلم وستم سے آزادی حاصل کرنے کے لئے شبانہ نے موت واحد حل سمجھا اور گلے میں پھندا ڈال کر زندگی کا خاتمہ کیا ۔افسوسناک واقعہ کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاش کو قبضہ میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔پولیس کا کہناتھا کہ شوہر کے ساتھ جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہو کر شبانہ نے خودکشی کی ۔

مقتولہ کے ورثاء کا کہناتھا کہ شبانہ کو شوہر اور سسرالیوں نے تشدد کر کے قتل کیا۔ورثا نے الزام لگایا کہ شوہر جبران پہلے بھی شبانہ کو تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔ دو گھنٹے بعد بھی فرانزک ٹیمیں موقع پر نہ پہنچیں، شبانہ نے چار سال قبل جبران سے پسند کی شادی کی تھی۔

واضح رہے کہ خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے خوف و ہراس کی فضا طاری کردی ہے۔ ہرروزکوئی نہ کوئی شخص اپنے ہاتھوں سے موت کو گلے لگا لیتا ہے۔بعض مرتبہ ایسی چہ مگوئیاں بھی سننے کو ملتی ہیں کسی مرد یا خاتون کو قتل کرنے کے بعد،اس کی لاش کوپھندا ڈال کر لٹکایا گیاہے ۔البتہ ابھی تک تفتیش کے نتیجے میں ایک بھی ایسا واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔خودکشی کے واقعات کا سبب ذہنی تشدد ،غربت ،مرضی کے خلاف شادیاں،سماجی رسم و رواج کے بندھن و مالی مشکلات،گھریلو جھگڑے بتائے جا تے ہیں۔

دریں اثناء خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے کئی سولات کو جنم دے دیا ہے کہ تمام تر خودکشیاں پھندا ڈال کر کیوں ہوتی ہیں اور مرنے والوں کی اکثریت شادی شدہ خواتین کی ہی کیوں ہوتی ہے۔ضرورت اس مر کی ہے کہ ان واقعات کی وجوہات کا سراغ لگایا جائے کہ کیا تمام تر واقعات خودکشی ہیں یا کچھ اور بھی وجہ ہے جس پر پردہ ڈالنے کے لیے خودکشی کا رنگ دیا جاتا ہے۔