ن لیگ کا اپنے مقاصد سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان

ن لیگ کا اپنے مقاصد سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان

رائے ونڈ (عمر اسلم) نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز کی رہائشگاہ جاتی امراء میں مسلم لیگ (ن ) کے سینئر رہنماؤں کا اہم اجلاس، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، سینیٹر پرویز رشید ، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناءاللہ، خرم دستگیر خان سمیت دیگر نے شرکت کی۔ 

اجلاس میں سردار ایاز صادق کیخلاف منفی اشتہاری مہم چلانے کی مذمت کی گئی،  اجلاس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ کے کامیاب جلسوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ عوام پی ڈی ایم کی سیاسی جدوجہد میں جس جوش وجذبے کا اظہار کر رہے ہیں اور جلسوں میں شرکت کر رہے ہیں، اس سے سلیکٹڈ حکومت کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں، سلیکٹڈ حکومت کا پراپیگنڈے کے محاذ پر ایڑیاں رگڑنا اور بھارتی میڈیا کے زیراثر غداری کے اوچھے بیانیے کا پرچار شکست خوردگی کی علامت ہے۔

لیگی رہنماؤں نے کہاکہ وضاحت جاری ہونے کے باوجودایازصادق کیخلاف اس نوعیت کے ہتھکنڈے دراصل عوام کی توجہ مہنگائی، بے روزگاری، معیشت کی تباہی، خارجہ پالیسی سمیت ہر محاذ پر بدترین نالائقی وناکامی اور حکومتی کرپشن کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ 

اجلاس  میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلے مرحلے میں خیبرپختونخوا میں پی ڈی ایم کے جلسوں کو بھرپور کامیاب بنانے کے لئے عوام اور کارکنوں کو فعال کیا جائے، مسلم لیگ (ن) پی ڈی ایم اور پارٹی کے پلیٹ فارم سے ووٹ چوری کے خلاف اور عوام کے آئینی، قانونی، جمہوری اور معاشی حقوق کے لئے تاریخی کردار ادا کررہی ہے اور مستقبل میں اس سے بھی زیادہ قوت سے اپنا کردار ادا کرے گی اور کسی بھی قیمت پر اپنے بنیادی نصب العین سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

لیگی رہنماؤں  نے پارٹی صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو جیل میں قانونی سہولیات نہ دینے کی وزیراعظم عمران خان کی آئی جی جیل خانہ جات کو دھمکی کی شدید مذمت کی اور قرار دیا کہ فسطائیت اور سیاسی انتقام میں پاگل سلیکٹڈ وزیراعظم کی اوچھی اور خلاف قانون حرکتیں ان کا ڈولتا اقتدار بچا نہیں سکتیں۔ 

اجلاس نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کی آئین، قانون، جمہوریت، پارٹی نظریہ کے لئے قربانیوں اور سیاسی انتقام کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ اجلاس میں پارٹی کے مستقبل کے پروگراموں، سیاسی سرگرمیوں اور سیاسی جدوجہد کے حوالے سے بھی لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔