والد کو جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا,یوکرینی بچے کی گفتگونے سب کو رُلا دیا، ویڈیو دیکھیے

والد کو جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا,یوکرینی بچے کی گفتگونے سب کو رُلا دیا، ویڈیو دیکھیے
کیپشن: Ukrainian children separated from their families because of the Russian invasion.
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :  جنگ زدہ یوکرین کے دارالحکومت  کیف  سے ریسکیو کئے گئے بچےمارک گونچاروک  کی گفتگو نے سب کو رُلا دیا، ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی۔

مارک گونچاروک  ان ہزاروں یوکرینیوں میں سے ایک ہے جنہیں روس کے حملے کے بعد اپنے خاندان سے الگ ہونا پڑا ۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارک نے بتایا کہ ہمیں روسی فوجیوں سے لڑنے کے لیے اپنے والد کو پیچھے چھوڑنا پڑا ۔ اس وقت میں اور خاندان کے باقی افراد حفاظت کیلئے بھاگ رہے ہیں۔

مارک کے آنسو بتا رہے تھے کہ وہ اپنے والد سے بچھڑنے پر کس قدر غمزدہ اور پریشان ہے۔ اس وقت لاکھوں یوکرینی بچے روسی حملے کی وجہ سے اپنے خاندانوں سے جدا ہو چکے ہیں۔مارک گونچاروک کا انٹرویو اس وقت لیا گیا جب وہ اپنے والد کو الوداع کہہ کر کیف سے مغرب کی طرف روانہ ہورہے تھے، مارک کے والد نے یوکرینی دارالحکومت کا دفاع کرنے اور پیوٹن کی افواج سے  مقابلہ کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا۔

8سالہ مارک کو  پولینڈ کی سرحد سے تین دن کے پیدل سفر کے دوران ایک سڑک کے کنارے سے بچایا گیا۔ فن لینڈ کے ایک صحافی نے مارک کو ریسکیو کیا اور ان کا انٹرویو بھی لیا۔ بچےنے ریسکیو کرنے پر صحافی کا شکریہ ادا بھی کیا۔تمام ریسکیو افراد کو منی بس  میں سوار کیا گیا جہاں انہوں نے روتے ہوئے صحافی کو بتایا ے کہ  ہم کئی گھنٹوں سے چل رہے ہیں اور آپ نے ہمیں بچایا۔ ہم نے سوچا کہ ہمیں کئی دن پیدل چلنا پڑے گا۔

یہ دل دہلا دینے والی ویڈیو یوکرین میں رونما ہونے والے انسانی المیے کی عکاسی کرتی ہے ۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتے روس کےحملے کے بعد سے 500,000 سے زیادہ لوگ یوکرین سے فرار ہو چکے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کی ترجمان شبیہ منٹو نے کہا ہے کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یوکرین سے ہجرت کرکے پولینڈ میں 281,000، ہنگری میں 84,500 ، مالڈووا میں 36,400، رومانیہ میں 32,500 اور سلواکیہ میں تقریباً 30,000 افراد داخل ہوئے۔اس وقت  مغرب کے ساتھ یوکرین کی سرحدوں سے نکلنے کی کوشش کرنے والی گاڑیوں کی 25 میل سے زیادہ لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں جبکہ  ہزاروں لوگ پیدل بھی چل رہے ہیں۔