گاڑیوں کی سپر داری کا سکینڈل سامنے آگیا

گاڑیوں کی سپر داری کا سکینڈل سامنے آگیا

( عرفان ملک، حسن علی ) لاہور میں کٹ اینڈ ویلڈ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سپرداری کا انکشاف، ایک سو ترپن گاڑیاں ملی بھگت سے من پسند افراد کو دی گئی، انکشاف ہونے پر گاڑیاں واپس لے کر انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہر میں سپرداری پر چلنے والی نان کسٹم، کٹ اینڈ ویلڈ اور ٹیمپرڈ گاڑیوں کا سکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ پولیس کی ملی بھگت سے دی گئی ایک سو ترپن بڑی گاڑیاں سپر داروں سے واپس لے لی گئیں، جس کے بعد اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف کے چار اہلکاروں کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بااثر افراد کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیاں منگوا کر خود ہی پولیس کو پکڑوا دی جاتیں اور بعد میں سپرداری پر حاصل کر لی جاتی تھیں، جس سے انکی قانونی حیثیت بحال ہو جاتی۔ پولیس نے گاڑیوں کی سپرداری کیلئے جعلی ضمانتیں دینے والوں کی بھی فہرست بھی تیار کر لی ہے۔

جعلی ضامن عدالتی عملے کی ملی بھگت سے جعلی رجسٹریوں پر سپرداری کرواتے تھے۔ پولیس نے آئندہ پکڑی جانیوالی ٹیمپرڈ گاڑیاں سپرداری پر نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب لاہور کار ڈیلرز فیڈریشن کے صدر شہزادہ سلیم خان نے حکومت کو اس سکینڈل کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈیوٹیز اور ٹیکس گاڑیوں کی اصل قیمت سے بے تحاشا وصول کیا جا رہا ہے، جس کے باعث لوگ ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں۔ اگر حکومت گاڑیوں پر ڈیوٹیزاور ٹیکسوں میں کمی اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے تو ایسے سکینڈل پیدا ہی نہیں ہو سکتے۔

کار ایمپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے رہنما میاں شعیب کا کہنا ہے کہ سپرداری پر نان کسٹم، کٹ اینڈ ویلڈ اور ٹیمپرڈ گاڑیوں کا لاہور میں چلنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی ہے۔ کار ڈیلرز اور ایمپورٹرز کا مزید کہنا ہے کہ اگرحکومت آٹو پالیسی لانے کے ساتھ ساتھ ایمپورٹڈ اور مقامی گاڑیوں پرعائد ڈیوٹیز اور ٹیکس کم کردے تو یہ اہم مسلہ حل ہوسکتا ہے۔