سال 2019ء بلدیاتی نمائندوں کی حسرتوں کا خون کر گیا

سال 2019ء بلدیاتی نمائندوں کی حسرتوں کا خون کر گیا

 (راﺅ دلشاد) پنجاب حکومت نے بلدیاتی ایکٹ 2013ء کا دھڑن تختہ کر کے بلدیاتی ایکٹ 2019ء نافذ کر دیا، میٹروپولیٹن کارپوریشن امسال بھی 2 ارب 70 کروڑ کے ترقیاتی بجٹ کی تو ایک پائی بھی خرچ نہ کرسکی لیکن غیر ترقیاتی بجٹ کیلئے خزانے کا منہ کھول دیا۔

 ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن نے سال 2019ء میں نئی ترقیاتی سکیموں پر ایک پائی بھی خرچ نہیں کی، پنجاب میونسپل سروسز پروگرام کے فیز ون کیلئے ایک ارب 94 کروڑ مختص کیے گئے لیکن ایک پائی بھی خرچ نہیں ہو سکی، مالی سال 2019ء اور 2020ء میں ترقیاتی سکیموں کیلئے2 ارب 70 کروڑ رکھے گئے، سڑکوں کی مرمت و بحالی کی سکیموں کیلئے 60 کروڑ رکھے گئے جبکہ 14 کروڑ 51 لاکھ ہی خرچ ہوسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ترقیاتی بجٹ سے شہر کی سڑکوں کی لائٹس کی خریداری کیلئے 20 کروڑ رکھے گئے لیکن صرف 3 کروڑ 70 لاکھ ہی خرچ ہو سکے، سٹریٹ لائٹس کی مرمت و بحالی کیلئے 20کروڑ رکھے گئے لیکن 3 کروڑ 70 لاکھ خرچ ہوئے، واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مرمت و بحالی کیلئے15 کروڑ رکھے گئے لیکن صرف 37 لاکھ 58 ہزار خرچ کیے گئے، تاہم ایم سی ایل کی عمارتوں اور رہائش گاہوں کی تعمیرو مرمت کیلئے 10 کروڑ رکھے گئے لیکن ایک کروڑ 2 لاکھ 65 ہزار ہی خرچ ہو سکے۔

لارڈ میئر لاہور، نو ڈپٹی میئرز سمیت 319 ایم سی ایل ہاﺅس ممبرز کو بلدیاتی ایکٹ 2019ء  گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد گھر جانا پڑا۔ شہر کی 276 یونین کونسلز کے 3507 منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بھی گھر جانا پڑا۔

سال 2019ء میں یکم جنوری سے چار مئی تک چار ہاؤس اجلاس ہوئے، منتخب بلدیاتی نمائندوں نے مفاد عامہ سے متعلق 62 قراردادیں جمع کرائیں، جو تمام بے سود رہیں، بلدیاتی ایکٹ 2019 ءکے نفاذ کے بعد5 مئی سے 2 جولائی تک کمشنر لاہور ڈاکٹر مجتبیٰ پراچہ نے بطور ایڈمنسٹریٹر ایم سی ایل فرائض سرانجام دیئے، 3 جولائی سے 30 نومبر تک کمشنر آصف بلال لودھی نے بطور ایڈمنسٹریٹر ایم سی ایل فرائض سرانجام دیئے، یکم دسمبر سے کیپٹن ریٹائر سیف انجم بطور ایڈمنسٹریٹر ایم سی ایل فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

میٹرو پولیٹن کارپوریشن شہر کی سوا کروڑ آبادی کیلئے کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ نہ لگا سکی، ایم سی ایل ہاﺅس کا منظور کردہ ایک ارب سے زائد کی ترقیاتی سکیمیں اور ایک بھی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کیا جا سکا۔

 ہال روڈ اور مال روڈ کے سنگم میں پانچ منزلہ موٹر سائیکل پارکنگ پلازہ کی تعمیر کی دو مرتبہ ہاؤس کی منظوری بھی رائیگاں گئی، تجاوزات کے خاتمے کیلئے ٹیمیں متحرک تو رہیں لیکن نہ تجاوزات کا مکمل خاتمہ ہوا نہ ہی رہائشی علاقوں سے مویشیوں کا انخلاء ممکن ہوسکا۔

 شعبہ فنانس سال بھر میں ایک ارب 92 کروڑ کا ریونیو ٹارگٹ پورا نہ کرسکا، شعبہ پلاننگ کو سال میں صرف 4 ہزار 5 سو 59 نقشے موصول ہوئے جبکہ 12 سو 51 نقشے التواء کا شکار رہے