عدالت نے ڈاکٹر عمار علی جان کو  نظر بند کرنے سے روک دیا

عدالت نے ڈاکٹر عمار علی جان کو  نظر بند کرنے سے روک دیا

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی ایم کے مبیبہ رکن اور حقوق کے رہنماء ڈاکٹر   عمار علی جان کی تیس دن کے لیے نظر بندی کیخلاف درخواست پر سماعت، عدالت نے ڈاکٹر عمار علی جان کو  نظر بند کرنے سے روک دیا اور ڈی سی لاہور سمیت دیگر فریقین کونوٹس جاری کرتے یوئے سترہ دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس محمد قاسم خانبنے ریمارکس دئیے کہ بادی النظر میں ڈپٹی کمشنر کا نظر بندی کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلوں کیخلاف ورزی ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ڈاکتر عمار علی جان کی درخواست پر سماعت کی۔ ڈاکٹر عمار جان اہنے وکلاء کے ہمراہ ہیش ہوئے ۔درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور،پنجاب حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا۔حناء جیلانی ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ  ڈپٹی کمشنر لاہور نے ڈاکٹر عمار کی نظری بندی کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔

چیف جسٹس محمدقاسم خان نے استفسار کیا کہ  کہ  درخواست گزار کیا کرتا ہے؟ حناء جیلانی نے جواب دیا کہ درخواستگزار پروفیسر ہے، ایف سی کالج میں پڑھاتا رہا ہے،  چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواستگزار کا کوئی کریمنل ریکارڈ موجو ہے ؟؟؟ حناء جیلانی نے جواب دیا اس کے خلاف صرف ایک مقدمہ درج ہوا، جس کی اس عدالت سے ضمانت کنفرم ہوگئی تھی اس کے علاوہ کوئی مقدمہ نہیں۔

چیف  جسٹس نے کہا  سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کسی کیخلاف محض مقدمہ درج ہونے کی بنیاد پر نظر بند نہیں کیاجاسکتا، پاکستان میں جو طاقتور لوگ ہیں وہ تو اپنے مخالفین کو کہیں نکلنے ہی نہیں دیں گے،عدالت نے وکیل کا موقف سننے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ڈاکٹر عمار جان  کی نظربندی کا حکم پر عملدرآمد روک دیا اور ڈیبسمیت دیگر فریقین کو سترہ دسمبر کے لئے نوٹس جاری کر دئیے۔

درخواست گزار ڈاکٹر عمار علی جان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ  وہ ٹیچر ،رائٹر اور سماجی کارکن ہے ۔قانون پر عملدرآمد کرنے والا محب وطن پاکستانی ہے، غیر قانونی ہراساں کیا جا رہا ہے ۔پہلے ہی دومقدموں میں نامزد اور ضمانت پر ہوں ۔عدالت سے استدعا ہےکہ ڈپٹی کمشنر کا نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔