فواد چودھری کا 2022 میں پاکستان کا پہلا مشن خلا میں بھیجنے کا دعویٰ


( راؤ دلشاد ) وفاقی وزیر فواد چودھری کی روایت سے ہٹ کر نرم لیجے میں پریس کانفرنس ، کہتے ہیں ملک کو مستحکم کرنے کے لیے تلخیاں ختم کرنا ہونگی، اداروں کے مابین ڈائیلاگ اور نئی ڈیل جبکہ سیاسی جماعتوں کے مابین مفاہمت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ فواد چودھری نے دعویٰ کیا کہ 2022 میں پاکستان کا پہلا مشن خلا میں روانہ ہوگا جسکی شارٹ لسٹنگ کی جارہی ہے۔

پی سی ایس آئی آر لیبارٹری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ اداروں کی مضبوطی کی بات کی ہے۔ انہوں نے اداروں میں ہم آہنگی کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے تجویز دے دی۔ وفاقی وزیر بولے مختلف سازشوں کو قریب سے دیکھا جبکہ کئی سازشوں کا حصہ بھی رہا لیکن اس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ اپوزیشن کے بغیراداروں میں توازن نہیں لاسکتے، اپوزیشن کا کردار اہم ہے لہذا اپوزیشن کے کردار کو فراموش نہیں کرسکتے۔ سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان نئے میثاق کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مسائل سے باہر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ 1962 اور 1956 کے آئین میں آرمی چیف کی مدت ملازمت طے تھی۔ آرمی چیف کا معاملہ قانونی کے بجائے سیاسی ہو گیا ہے جبکہ مشرف کا کیس بھی سیاسی ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس کے گریٹر ڈائیلاگ کے مشورے کو سنجیدگی سے لینا چاہئیے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے لیے تجویز کردہ نام سنجیدہ ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ چیف الیکشن کمیشنر کے نام اپوزیشن کے ساتھ آسانی سے طے پالیں گے۔ ہم اپوزیشن کے اتفاق رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، اب پارلیمنٹ کو فنکشنل کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نیب پر بھی ہمیں گلے ہیں، نیب قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے، واجد ضیا کی کریڈیبلیٹی بہت اچھی ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ آئندہ سال فروری میں ائیرفورس سپیس مشن کے لئے شارٹ لسٹنگ شروع کردے گی۔ 600 گنا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اضافہ ہوا ہے اسی لیے بجٹ کو ایک ہزار گنا تک لے جائیں گے۔