" خواتین ججزکوڈ آف کنڈکٹ اور فیصلوں سے منفی لوگوں کی سوچ بدلیں"


(ملک اشرف) چیف جسٹس آف پاکستان سردارمحمد آصف سعید خان کھوسہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صنفی امتیاز شروع سے ہی چلتا آرہا ہے، تعلیمی اداروں سے لیکرملازمتوں تک ہرجگہ صنفی امتیازموجود ہے، خواتین ججز رویے، کوڈ آف کنڈکٹ اور فیصلوں سے منفی لوگوں کی سوچ بدلیں۔

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام ویمن ججز کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان سردار محمد آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ خواتین کو ہر جگہ مسائل کا سامنا ہے، جبکہ ہمارا آئین اور مختلف قوانین خواتین کو خاص حقوق دیتے ہیں۔

 چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہائیکورٹس کے بعد بہت جلد سپریم کورٹ می‍ں بھی خاتون جج بنچ کا حصہ ہونگی، بہت سارے وکلاء خواتین ججز کے سامنے پیش ہونے کو اپنی تذلیل سمجھتے ہیں، لیکن خواتین ججز اپنے رویے، کوڈ آف کنڈکٹ اور فیصلوں سے منفی لوگوں کی سوچ کو بدلیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس کے بعد خواتین ججز کے رویوں اور فیصلوں میں مزید بہتری آئے گی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار محمد شمیم خان نے کہا کہ مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے محافظ ہیں،قانون کی نظر میں کوئی بھی حقیر یا بالاتر نہیں، صرف صنف کی بنیاد پر کسی کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، آج خواتین ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔

اختتامی سیشن میں نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مامون رشید شیخ، جسٹس جواد حسن اور جسٹس اسجد جاوید گھرال سمیت دیگر ججز نے شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس پاکستان ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس عائشہ اے ملک اور تمام انتظامیہ کو شیلڈز پیش کی گئیں۔

Sughra Afzal

Content Writer