پی سی بی کے اعلیٰ عہدیدار بورڈ آئین کی خلاف ورزی کرنے لگے

پی سی بی کے اعلیٰ عہدیدار بورڈ آئین کی خلاف ورزی کرنے لگے

( حافظ شہباز علی ) پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے ناردرن کرکٹ ایسوسی ایشن کو رجسٹرڈ کروانے کے لئے خود کو ناردرن ایسوسی ایشن کا عہدیدار ظاہر کرکے ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کروادی، پی سی بی کے اعلیٰ عہدیداروں کا یہ عمل بورڈ کے آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

پی سی بی حکام کا ملک بھر کے کرکٹ آرگنائزرز پرعدم اعتماد یا پھر ہر معاملہ اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش، بورڈ کے اعلیٰ عہدیداران اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناردرن کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیدار بن گئے۔

ناردرن کرکٹ ایسوسی ایشن کو سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کروانے کے لئے بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر کو صدرچیف ایگزیکٹو وسیم خان کو نائب صدر، سعد عمران کو سیکرٹری ڈائریکٹر انٹرنیشنل، ذاکر خان کو چیف ایگزیگٹو آفیسر، عتیق رشید چیف فنانشل آفیسر، بلال حنیف کو انٹرنل آڈیٹر اور پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع برنی کو ایسوسی ایشن کا ممبر ظاہر کیا گیا ہے۔

پی سی بی کے 2019 کے آئین کے مطابق کوئی بورڈ آفیشل ایسوسی ایشن کا حصہ نہیں بن سکتا۔ ایسا کرنا آئین کے آرٹیکل 20 کے مطابق مفادات کے ٹکراو کی مد میں آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئین کے مطابق ممبران اور عہدیداران کا مقامی ایسوسی ایشن کا رہائشی ہونا ضروری ہے، تاہم ناردرن ایسوسی ایشن کے لئے ظاہر کئے گئے۔

عہدیداران اور اراکین کی اکثریت کا تعلق دوسرے شہروں سے ہے۔ بورڈ حکام کے اس اقدام پر ملک بھر کے کرکٹ آرگنائزرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس صورت حال پر ترجمان بورڈ کا کہنا ہے کہ ناردرن ایسوسی ایشن کی یہ باڈی سوسائٹی ایکٹ میں رجسٹریشن کے لئے بنائی گئی ہے، یہ عہدیداران نہیں بلکہ فاونڈنگ ممبران ہیں جبکہ باڈی رجسٹرڈ ہونے کے بعد منتخب عہدیداران ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔