اعظم گارڈن میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق پروفیسر قتل

 اعظم گارڈن میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق پروفیسر قتل

ملتان روڈ (عابد چودھری  ،اکمل سومرو) سابق ایڈیشنل کنٹرول پنجاب یونیورسٹی احمد علی چٹھہ کونامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے افسوسناک واقعہ کا نوٹس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق گھر سے دودھ لینے کیلئے اعظم گارڈن گئے جہاں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں قتل کردیا۔ ملزموں نے احمد علی کو سر میں گولیاں ماریں۔پولیس نے لاش پوسٹ مار ٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موقع سے شواہد اکٹھے کرکے واردات کا مقدمہ درج کر لیا گیا، ابتدائی تحقیقات میں واقعہ دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے سابق ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات احمد علی چھٹہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، پنجاب یونیورسٹی ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی ٹاؤن ون میں مرحوم کی نماز جنازہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں  نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر حافظ محمد اقبال نے شرکت کی۔ نماز جنازہ میں ڈاکٹر احسان ملک، ڈاکٹر شوکت علی،  ڈاکٹر ممتاز سالک،  ڈاکٹر ذوالفقار بورا، کنٹرولر امتحانات محمد رؤف، جماعت اسلامی کے رہنما احمد سلمان بلوچ، قیصر شریف ڈاکٹر ممتاز انور نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد سراج الحق نے احمد علی چٹھہ کی مغفرت کیلئے دعا کرائی۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے شہر لاہور میں بہیمانہ قتل کرنے والوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

 سراج الحق کا کہنا تھا کہ احمد علی چھٹہ کے قتل پر لاہور افسردہ ہے۔ مقتول بہت خدمت گزار اور نیک انسان تھے، شہری علاقے میں قتل ہونے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

 

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے تھانہ مصطفیٰ ٹاؤن کی حدود میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات احمد علی چٹھہ کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی۔

وزیر اعلیٰ  پنجاب نے قتل میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو قانو ن کی گرفت میں لاکر مزید کارروائی کی جائےـ

انہوں نے کہا کہ مقتول کے لواحقین کو ہر صورت انصاف فراہم کریں گےـ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مقتول کے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔